دس سوال، سائنس جن کا جواب اب تک نہیں دے پائی

دس سوال، سائنس جن کا جواب اب تک نہیں دے پائی




Questions

بجلی کیوں چمکتی ہے؟ زلزلے کیوں آتے ہیں؟ آسمان نیلا کیوں ہے؟ ہزاروں برسوں سے یہ اور ایسے ہی ان گنت سوال انسان کو پریشان کرتے آئے ہیں۔ وجہ یہ کہ انسان جبلّی طور پر متجسس واقع ہوا ہے۔ اس کے لیے کسی واقعے کا پیش آنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کی وجوہات اور مضمرات جاننا بھی ضروری ہے۔گویا ’کیا‘کے ساتھ ساتھ ’کیوں‘کا جواب ملنابھی اتنا ہی اہم ہے۔ اس نقطہٴ نظر سےگذشتہ ہزاروں سالوں میں انسانی علم و فنون میں تمام تر ترقی کوحیرت کے سفر سے تعبیر کیا جاسکتاہے۔

گوکہ اب تک دنیا و کائنات سے متعلق سوالات کے جوابات حاصل کرنے میں انسان نے قابلِ رشک ترقی کی ہے، تاہم ایسا نہیں کہ سب سوالات کے جواب پالیے گئے ہوں۔ اکثراکثر تو یہ بھی ہواہے کہ ایک گتھی سلجھاتے سلجھاتے کئی نئی گتھیاں سامنے آگئی ہوں۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ایسے دس انتہائی اہم اور بنیادی سوالات کا جائزہ لیں گے جو اب تک لاینحل ہیں۔

 1. کائنات کس چیز سے بنی ہےquestionmark

Galaxy cluster 1E 0657-56,  formed after the collision of two large clusters of galaxies

کائنات کا 96 فی صد حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے

سائنس دانوں نے حال ہی میں معلوم کیا ہے کہ کائنات کا صرف چار فیصد حصہ ایسے مادے سے بنا ہے جس سے ہم روزمرہ زندگی میں دوچار ہوتے ہیں۔گویا پانی، مٹی، درخت، شیر، ہاتھی، پتھر، زمین، چاند ، سیارے، سورج،غرض زمین پر پائی جانے والی او رآسمان میں نظر آنے والی ہرشے ایٹموں اور مالیکیولوں سے مل کر بنی ہے۔

سائنس دانوں نے لاکھوں کروڑوں نوری سالوں کے فاصلوں پر موجود ستاروں اور کہکشاؤں سے ہم تک پہنچنے والی روشی کی مددسے ان کی ساخت کا بھی اندازہ لگالیاہے اور معلوم کیاہے کہ یہ اجسام زمین پر پائے جانے والے عام مرکبات، یعنی ہائیڈروجن، ہیلیم، آکسیجن اور کاربن وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ لیکن پہیلی یہ ہے کہ یہ تمام اشیا کائنات کے کل وزن کا صرف چار فیصد حصہ ہیں۔

 کائنات کے بقایا 96 فیصد حصے کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں کسی کو کچھ خبر نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ عام ایٹم اور مالیکیول کے علاوہ کوئی اور شے ہے۔ اس پراسرار مادے کو سائنس دانوں نے’ڈارک میٹر‘یعنی تاریک مادّہ کا نام دیا ہے۔

 گویا ہم جس کائنات میں بستے ہیں، اس کے 96فیصد حصے کے بارے میں یکسر لاعلم ہیں۔

 
2. شعور کیا چیزہےquestionmark

illustration of brain

سائنس دان یہ تو جانتے ہیں کہ انسانی دماغ خلیوں کی خاص ترتیب سے بنتاہے ۔یہ خلیے پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور دوسری اقسام کے حیاتیاتی مادوں سے تشکیل پاتے ہیں۔


 لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سارے کیمیائی مادے کس طرح آپس میں تعامل کرکے ایک غیر مادی شے یعنی شعور کی تخلیق کرتے ہیں؟اور آخر کیا جادو ہے کہ چند کیمیائی اجزا کا مجموعہ اپنے وجود کے بارے میں سوال اٹھانے کے قابل ہوجاتاہے؟

 3. کیا ہم کائنات میں تنہاہیںquestionmark

alien


ایلیئن کے موضوع پر بہت سی فلمیں بن چکی ہیں


تازہ ترین اندازے کے مطابق کل کائنات میں ہماری کہکشاں سے ملتی جلتی ایک کھرب تیس ارب کہکشائیں ہیں۔ صرف ہماری کہکشاں میں سورج کے مانندایک کھرب ستارے ہیں۔


 



اس کے علاوہ اب تک ماہرینِ فلکیات نظامِ شمسی سےباہر دوسرے ستاروں کے گردگھومنے والے تقریباً ڈیڑھ سو سیاروں کا سراغ لگاچکے ہیں اور جوں جوں دوربینوں کی صلاحیت بڑھتی جارہی ہے، سیاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے۔

 


اندازہ ہے کہ اگرکائنات میں پائے جانے والے اکثر ستاروں کے گردہمارے سورج کی طرح چند سیارے پائے جاتے ہیں تو کائنات میں سیاروں کی کل تعداداتنی زیادہ بن جاتی ہے کہ اسے احاطہٴ تصور میں لانا مشکل ہے۔

 


لیکن ان میں سے کتنے سیاروں پر زندگی موجودہے؟ اور کیا کسی سیارے پر انسان کی طرح کوئی ذہین مخلوق بھی آباد ہے؟

 


یہ وہ سوال ہے جس کا جواب پچھلے کئی عشروں کی سرتوڑ جدوجہد کے باوجود بھی نہیں دیا جاسکا۔

 



4. نیند کا مقصد کیا ہےquestionmark

 


young girl sleeping



تمام دودھ دینے والے جانور سونے لت میں مبتلاہوتے ہیں اور اگر ان کو لمبے عرصے تک نیند سے محروم رکھاجائے تو وہ مرجاتے ہیں۔ بلکہ کھانے سے محروم رکھنے سے انسان اتنی جلدی نہیں مرتاجتنا نیند سے محروم رکھے جانے پر۔

 


بعض سائنس دانوں خیال ہے کہ شاید جاگنے وقت جسم میں کسی مادے کی کمی واقع ہوجاتی ہے جس کی مقدارنیند کے دوران پوری کرلی جاتی ہے۔ اس کا متضاد نظریہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ کسی مادے کی زیادتی کو کم کرنے کے لیے نیند کی ضرورت پڑتی ہے۔

 


لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نیند کے بیشتر حصے میں، جسے آر ای ایم نیند کہاجاتاہے، دماغ انتہائی مصروف رہتا ہے۔ کچھ لوگوں نے قیاس ظاہر کیا ہے کہ اس حصے میں یادداشت کو مضبوط بنایاجاتاہے، لیکن تجربات سے یہ بات ثابت نہیں ہوسکی۔

 


چاہے نیند کا مقصد جو بھی ہو، اس کا پورا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر سال ٹریفک کے لاکھوں حادثات ڈرائیوروں کی نیند پوری نہ ہونے کے باعث ہوتے ہیں۔

 
5. زندگی کا آغاز کیسے ہواquestionmark

 


چارلز ڈارون

ڈارون نےاپنے نظریہٴ ارتقا سے اس سوال کا جواب تو دے دیاتھا کہ جاندار اپنے آپ کو ماحول کے مطابق کیسے ڈھالتے ہیں۔ لیکن زندگی پہلی بار وجود میں کیسے آئی، اس پر سوچتے سوچتے ڈارون نے بھی عاجز آ کراسے’’عظیم معمہ‘‘کہاتھا۔

 خیال کیاجاتا ہے کہ قدیم زمانے میں زمین پر ایسے موسمی حالات تھے جن کے تحت کچھ کیمیائی مادوں کا کچھ ایسا آپسی تعامل ہوا جس کے نتیجے میں پہلا جانداروجود میں آگیاجو زندگی کی سب سے سادہ شکل تھی۔

 


لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چند مرکبات کے آمیزے اورکسی جیتی جاگتی مخلوق کی تخلیق تک اتنا فاصلہ ہے جسے پاٹنے سے موجودہ انسانی عقل قاصرہے۔


6. کششِ ثقل کیا ہے؟

 

کہانی مشہور ہے کہ نیوٹن نے سیب گرتے دیکھ کر کششِ ثقل (گریوٹی) کا نظریہ پیش کیا۔اس

Apple and tree

نظریے سے سیاروں اور ستاروں کی حرکت اور کئی دوسرے مسائل توحل ہوگئے لیکن آج تین صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی یہ سوال اپنی جگہ پر رہا کہ آخر کششِ ثقل ہے کیا چیز؟اگر سیب زمین پر گرتا ہے تو زمین سے کس نوعیت کی لہریں نکلتی ہیں جو سیب کو اپنی طرف کھینچتی ہیں؟ یہ لہریں کہاں سے خارج ہوتی ہیں؟

 

بعض ماہرینِ طبیعات نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ایک ایٹمی ذرّہ گریویٹان ہے جو کششِ ثقل کی لہریں پیدا کرتا ہے۔ لیکن اب تک تجربہ گاہوں میں گریویٹان کو دریافت کرنے کے سارے تجربات ناکام ہوچکے ہیں۔

 

چناں چہ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں جس قوت کے ساتھ ہمارا سب سے زیادہ واسطہ پڑتا رہتا ہے اسی کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔

 


7. نی اینڈرتھال پر کیا گزری؟

 

A photographer takes pictures of the Neanderthal man at the Prehistoric Museum in Halle, Germany

جرمنی کے ایک عجائب گھر میں نی اینڈرتھال کا مجسمہ

نی اینڈرتھال (Neanderthal) یورپ میں بسنے والی انسان نما مخلوق تھی۔ ان کی شکل، چال ڈھال اور جسامت انسان سے اس قدر مشابہ تھی کہ اگر آج کوئی نی اینڈرتھال جین پہن کر سڑکوں پر ٹہلنا شروع کردے تو بہت کم لوگوں کو احساس ہو گاکہ یہ انسان نہیں ہے۔

 

آج سے کوئی 35 ہزار برس قبل جب جدید انسان یورپ پہنچا تو وہاں پہلے ہی سے نی اینڈرتھال آباد تھے۔ نی اینڈرتھال اس زمانے کے انسانوں کی طرح آلات بنانے کے ماہر تھے اور اپنے مُردوں کو بڑی شان و شوکت سے دفناتے تھے۔ وہ نہ صرف جسمانی طور پر جدید انسان سے زیادہ جسیم اور طاقت ور تھے بلکہ ان کادماغ بھی ہم سے بڑا تھا۔

 

کئی ہزار سال تک نی اینڈرتھال اور انسان یورپ میں ساتھ ساتھ رہے، لیکن پھر30ہزار برس قبل نی اینڈرتھال کا وجود صفحہٴ ہستی سے مٹ گیا۔ کیوں؟ کچھ ماہرین نے کہا کہ شاید اس کی وجہ کسی قسم کی وبا تھی جس نے نی اینڈرتھال کو نشانہ بنایا، دوسروں کا کہنا ہے کہ جدید انسان نےجنگیں لڑ لڑ کر ان کی نسل کا خاتمہ کرڈالا۔

 

امریکہ کی یونی ورسٹی آف ایری زونا کے سائنس دانوں نےایک متبادل نظریہ پیش کیا ہے کہ نی اینڈرتھال بنیادی طور پر شکاری تھے اور ان کے عورتیں، مرد ، بچے، بوڑھے سبھی بڑے جانوروں کے اجتماعی شکار میں حصہ لیتے تھے۔ اس کے مقابلے میں جدید انسانوں میں صرف جوان مرد شکار کرتے تھے جب کہ عورتیں اور بچے پودے، پھل اور بیج وغیرہ اکٹھے کیا کرتے تھے۔ بعد میں تمام قبیلہ مل بانٹ کر کھاتا تھا۔

 

اس ترقی یافتہ معاشرتی نظام کی وجہ سے جدید انسان کو سخت قدرتی حالات و آفات کا مقابلہ کرنے میں آسانی رہتی تھی، جب کہ نی اینڈرتھال کا نظام غیر لچک دار اور ناپائیدار تھاجو ان کے زوال کا باعث بنا۔

 

تاہم تمام سائنس دان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

 


8. پہلی زبان کا آغازکب اور کیسے ہوا؟

 

american sign language l 150

اشاروں کی زبان بھی دوسری زبانوں کی طرح وسیع اور جامع ہے

بہت عرصے تک سمجھا جاتا رہا کہ زبان کا آغاز آج سے کوئی 50ہزار برس قبل ہواتھا۔ لیکن حالیہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان اس سے کہیں پرانی ہے۔ جہاں تک ’کیسے‘کا جواب دینے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں بھانت بھانت کے نظریات پائے جاتے ہیں۔

 

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زبان قدرتی آوازوں اور جانوروں کی آوازوں کی نقالی سے پیداہوئی۔ مثال کے طور پر اُردو میں الفاظ کھڑکھڑانا،سرسرانا،گڑگڑانا، جھانجھن، وغیرہ قدرتی آوازوں کی نقل ہیں۔ لیکن یہ نظریہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ تجریدی خیالات کے حامل الفاظ، مثال کے طور پر خوب صورتی، نیکی، امن، صبر، سکون، وغیرہ کیسے وجود میں آئے۔

 

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ زبان کا آغاز ان صوتی علامات سے ہوا جو زمانہٴ قدیم کا انسان دوسروں کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال کیا کرتاتھا۔ مثال کے طور پر ایک چیخ نما آوازمیں سمجھادیتی تھی کہ ’خبردار، چیتا آرہاہے،‘ یا پھر ’یہ پھل مت کھانا، زہریلا ہے‘کو واضح کرنے کے ایک اور قسم کی آواز سے کام لیاجاتا ہوگا۔ بعد میں انھی ہنگامی چیخوں نے زبان کی شکل اختیار کرلی۔

 

لیکن یہ سب فرضی نظریات ہیں، اصل حقیقت کیا ہے، موجودہ انسانی علم اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔

 
9. کیا وقت محض فریبِ نظرہے؟

 

وقت کیا ہے؟ نوعِ انسانی کی علمی تاریخ میں یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قدیم یونانی حکما کا خیال تھا کہ وقت کسی حقیقی شے کا نام نہیں بلکہ یہ محض ایک تصور ہے۔ تاہم افلاطون نے کہا کہ وقت مستقل ہے، جب کہ اس کے مقابلے پر زندگی فریبِ نظر یا سراب ہے۔

 

آئزک نیوٹن نے نظریہ پیش کیا کہ وقت اور مقام (زمان و مکان) ایک ایسا چوکھٹا ہیں جن کے اندر تمام واقعات پیش آتے ہیں، اور یہ دونوں مستقل اور نہ تبدیل ہونے والے ہیں۔ تاہم بیسویں صدی میں آئن سٹائن نے ثابت کردیا کہ وقت مستقل بالذات نہیں ہے بلکہ اس کی رفتار کاتعلق ناپنے والے کی رفتار پر منحصر ہے۔ اگر کوئی تیز رفتار سے سفر کرے تو وقت کی رفتار سست پڑ جائے گی۔

 

150_Einstein

آئن سٹائن

آئن سٹائن نے یہ بھی کہا کہ وقت اور مقام (ٹائم اینڈ سپیس) آپس میں گتھے ہوئے ہیں اور وقت دراصل مقام کی چوتھی جہت ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مقام میں آگے اور پیچھے کی سمتیں یکساں ہوتی ہیں، یعنی آپ لاہور سے کراچی جاکر واپس لاہور آسکتے ہیں، لیکن وقت صرف آگے کی طرف حرکت کرتاہےاور اس میں کسی اور سمت میں سفر نہیں کیا جاسکتا۔

 

جدید دور میں بہت سے مفکرین کا نظریہ ہے کہ وقت بذاتِ خود کوئی چیز نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کا احساس حرکت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر ہر قسم کی حرکت رک جائے تو وقت کا تصور بھی فنا ہوجائے گا۔

 

شاید انسانی ذہن کبھی وقت کا معما حل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن وہ وقت ابھی بہت دور لگتاہے۔

 


10. زمین کی ساخت کیا ہے؟

 

Earth

یہ تو ہم جانتے ہیں کہ زمین کا مرکز سطح سے تقریباً چھ ہزارچار سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اور یہ کہ مرکز ٹھوس لوہے کا بنا ہوا ہےجس کاحجم تقریباً چاند کے برابر ہے۔

 

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین کی اوپری تہہ چٹانوں پر مشتمل ہے اور اس کی موٹائی کوئی تین ہزار کلومیٹر ہے۔ لیکن مرکزے اور تہہ کے درمیان 34 سو کلومیٹر میں کیا ہے اور اس کی ساخت کیا ہے؟

کسی قسم کاکھولتا ہوا سیّال مادہ، لیکن اس مادے کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ اس کا اوپری تہہ اور مرکزے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا کوئی تسلی بخش جواب آج تک نہیں مل پای

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: