مزاح

 

ایک ہونہار لڑکا بی ایس میں اول آنے کے بعد ایم ايس کا طالب علم تھا کہ ٹریفک کے حادثہ میں سر کُچلا گیا ۔ پروفیسر سرجن نے اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی اور اس کے سر کے کئی آپريشن کئے ۔ چھ ماہ بعد وہ تندرست ہو کر گھر جانے لگا تو پروفیسر سرجن نے اسے کہا ” مجھے بہت خوشی ہے کہ تم اپنے پاؤں پر چل کر گھر جا رہے ہو مگر مجھے دُکھ ہے کہ میں تمہارا دماغ نہ بچا سکا اور اسے نکالنا پڑا ۔ دماغ کے بغیر تم دنیا میں کیا کرو گے ؟”

وقت گذرتا گیا پروفیسر سرجن ریٹائر ہونے کے بعد اپنے گاؤں چلا گیا ۔ ایک دن پروفیسر اپنے گاؤں کی پتلی سی سڑک کے کنارے چل رہا تھا کہ ایک کار پاس سے گذری ۔ آگے جا کر رُکی اور اُلٹی ہی واپس آ کر پروفیسر کے پاس کھڑی ہو گئی ۔ پروفیسر نے بڑی سی نئی کار کو غور سے دیکھا ۔ شوفر نے بڑی سُرعت کے ساتھ کار سے باہر نکل کر پچھلی نشست کا دروازہ کھولا ۔ اس ميں سے ايک نہائت خوش پوش شخص نکل کر آيا اور بڑی گرم جوشی سے پروفيسر کے ساتھ مصافحہ کر کے بولا ۔ “پروفيسر آپ نے مجھے پہچانا نہيں ؟ ميں وہی ہوں جس کا آپ نے آپريشن کر کے جان بچائی اور دماغ ضائع ہونے کا آپ کو افسوس تھا” ۔
پروفيسر نے حيران ہو کر کہا ” يہ سب کيا ہے ؟”

تو وہ بولا “دماغ ضائع ہو جانے کے باعث ميں تعليم جاری نہ رکھ سکا اور ميں نے آرمی ميں کميشن لے ليا ۔ اب ميں ليفٹيننٹ جنرل ہوں” ۔

مندرجہ بالا مختصر ترجمہ ہے ایک امریکی ادیب کی لکھی کہانی کا ۔ لیکن ادیب یونہی ایسی کہانیاں نہیں لکھتے ۔ اس کی کوئی بنیادی عملی وجوہات ہوتی ہیں ۔ اپنی عملی زندگی میں سے 39 سال میرا رابطہ فوجی افسروں کے ساتھ رہا جن میں میجر سے لے کر لیفٹننٹ جنرل تک شامل ہیں ۔ صرف چند واقعات درج کرتا ہوں

آدھی صدی قبل پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے سٹورز ڈیپارٹمنٹ میں ایک میجر صاحب تشریف لے گئے ۔ انہوں نے ایک پرزہ اٹھایا تو اتفاق سے اسے زنگ لگا ہوا تھا ۔ وہاں کھڑے مزدور کو ڈانٹ پلا دی ۔ مزدور نے جواب دیا “صاحب ۔ اس پرزے کو گریس نہیں لگی ہوئی”۔ حکم ہوا “اگر بھیجنے والوں نے گریس نہیں لگائی تو تم کس لئے ہو ؟ یہاں جتنا مال پڑا ہے سب کو ابھی گریس لگاؤ ورنہ نوکری سے فارغ کر دونگا”۔ میجر صاحب حُکم دے کر چلے گئے ۔ وہ بیچارہ اَن پڑھ مزدور تھا ۔ گریس کی بالٹی کھولی اور تمام مال کو گریس لگا دی ۔ اس میں قیمتی گرائینڈنگ وہیل اور کچھ اور پرزے بھی تھے جو گریس لگانے سے بیکار ہو جاتے ہیں ۔ یہ میجر صاحب جنرل بننے کے بعد ریٹائر ہوئے ۔

میں 1960 کی دہائی میں سیکیورٹی کورس پر تھا جس کا انتظام برطانوی حکومت نے کیا تھا ۔ اس کورس کے اختتام پر ہمیں کچھ ڈاکومنٹری فلمیں دکھائی گئیں جو کہ اصل واقعات پر مبنی تھیں ۔ ان میں سے ایک واقعہ ۔ برطانیہ کی رائل آرڈننس فیکٹری میں استعمال ہونے والی ہینڈ ٹرالیاں گم ہونا شروع ہو گئیں ۔ ملٹری انٹیلیجنس نے بڑی محنت کی مگر کچھ سراغ نہ ملا ۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ 4 فٹ چوڑی اور 6 فٹ لمبی ٹرالی کوئی فیکٹری سے باہر کیسے لیجاتا ہے جبکہ گیٹ پر فوجی ہر شخص کی جامہ تلاشی بھی کرتے ہیں ۔ ایک سال گذر گیا اور 12 ٹرالیاں غائب ہو گئیں ۔ آخر اعلان کیا گیا کہ جو کوئی چوری کی واردات یا اس کے طریقہ کی اطلاع دے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ ایک ماہ بعد سکیورٹی چیف کے پاس ایک مزدور آیا اور کہا “مجھے مجاز افسر سے لکھوا کر دیں کہ نوکری سے نکالنے کے علاوہ میرے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی تو میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گا”۔ سکیورٹی کے چیف نے مطلوبہ حکمنامہ جاری کروا کر اسے بلایا تو اس نے کہا “کل چھٹی کے بعد مجھے فیکٹری سے باہر فلاں جگہ ملیں”۔ دوسرے دن اس نے سکیورٹی چیف کو بتایا “میرا خاندان بڑا ہے اور تنخواہ میں گذارہ نہیں ہوتا تھا ۔ میں نے فیکٹری میں گھاس کاٹنے کا لائینس لے لیا ۔ فارغ وقت میں گھاس کاٹ کر باہر لیجا کر بیچتا مگر پھر بھی ٹھیک سے دو وقت کی روٹی نہ ملتی ۔ اس کے بعد میں نے ایک منصوبہ بنایا ۔ ہر ماہ میں ایک دن گھاس کاٹ کر ٹرالی پر رکھتا اور اُسے کھینچتا ہوا گھر کو چل پڑتا ۔ گیٹ پر فوجی میری تلاشی لیتا اور گھاس کو بھی اُوپر نیچے کر کے دیکھتا مگر ٹرالی کے متعلق کچھ نہ کہتا ۔ میں 12 ٹرالیاں لیجا کر بیچ چکا ہوں اب میں چھوٹا موٹا کاروبار کر کے اپنے خاندان کو پالوں گا ۔ میں ملازمت سے استعفٰے دے چکا ہوں ۔ آج میری ملازمت کا آخری دن تھا”۔

پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں رواج تھا کہ کوئی گڑبر ہو تو تفتیش فوج کی خفیہ ایجنسی کرتی ۔ مسئلہ حل نہ ہو تو سویلین افسروں کی کمیٹی بنا دی جاتی ۔ کوئی 40 سال پہلے بجلی کے بلب غائب ہونا شروع ہوگئے ۔ ایک ایسے سویلین افسر کو تفتیش پر لگا دیا گیا جس نے میرے ساتھ برطانیہ کا سکیورٹی کورس کیا تھا ۔ اتفاق سے فیکٹری کے ایک ورکر نے بلب اتارتے ہوئے چور کو پکڑ لیا ۔ اس نے چور سے کہا “ملازمت سے تو تم نکال دئیے جاؤ گے ۔ اگر تم مجھے یہ بتا دو کہ بلب گیٹ سے باہر کیسے لے کر جاتے تھے تو تمہارے خلاف اور کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی”۔ چور نے کہا “گیٹ پر تلاشی کا یہ طرقہ ہے کہ چھٹی کے بعد سب ورکر دونو ہاتھ سیدھے اُوپر اُٹھا کر قطار لگا لیتے ہیں اور فوجی ہر ایک کی جامہ تلاشی لیتا جاتا ہے اور کچھ نہ نکلنے پر اسے باہر جانے دیتا ہے ۔ بلب میرے ہاتھ میں ہوتا تھا ۔ میں دونوں ہاتھ اُوپر کر دیتا اور جامہ تلاشی کے بعد میں بلب سمیت باہر نکل جاتا”۔

جرمن مشین گن جو آجکل ہماری فوج کے استعمال میں ہے یہ اس سے پہلے استعمال ہونے والی مشین گن برَین [Bren] سے بالکل مختلف ہے ۔ جب فوج کو اس مشین گن کی پہلی کھیپ بھیجی گئی تو اس کے ساتھ 5000 آپریشنل و تربیّتی مینؤل [Operation and Training Manual] اور 5000 مینٹننس مینؤل [Maintenance Manual] بھیجے گئے اور لکھا گیا کہ ہر کمپنی کمانڈر کو ہر ایک کتاب کی کم از کم دو دو کاپیاں بھیجی جائیں ۔ اس سے ایک ڈیڑھ سال قبل جی ایچ کیو کو سلنگ [Sling] کے نمونے درآمد کر کے بھیجے گئے تھے اور بتایا گیا تھا کہ ایک سال کے اندر سلنگز بنوا لیں تاکہ جب مشین گنز تیار ہوں تو ان کے ساتھ بھیجی جا سکیں ۔ نئی مشین گنز کی کھیپ بھیجے جانے کے کچھ ماہ بعد میں کسی کام سے فیلڈ ایریا [Field Area] گیا ۔ وہاں کیا دیکھا کہ گنرز [Gunners] کو غلط تربیت دی جا رہی تھی اور مشین گن کے ساتھ انہوں نے ایک چھوٹی سلنگ میں وَیبنگ [Webbing] کا ٹکڑا لگا کر لمبی کی ہوئی تھی اور وُیبنگ کا پچھلا سِرا بَٹ [Butt] کے اوپر لپیٹا ہوا تھا ۔ یہ نظارہ دیکھ کر میں دَنگ رہ گیا ۔ کمپنی کمانڈر جو کہ لیفٹننٹ کرنل تھے سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اُنہیں کوئی کتاب نہیں بھیجھی گئی تھی اور مشین گنوں کے ساتھ اَینفِیلڈ رائفل نمبر 4 مارک 2 [Enfield Rifle No.4 Mk 2] کی سلنگز بھیجھی گئی تھیں جن کی لمبائی بہت کم ہونے کی وجہ سے اُنہیں نے اِدھر اُدھر سے وَیبنگ لے کر اُنہیں لمبا کیا ۔ واپس آ کر میں نے پی او ایف کے چیئرمین صاحب کو تفصیل سے آگاہ کیا ۔ اگلے دن وہ مجھے ساتھ لے کر جی ایچ کیو گئے اور کافی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ کسی جنرل صاحب نے حُکم دیا تھا کہ کتابوں کا فیلڈ میں کیا کام چنانچہ جی ایچ کیو کی لائبریری میں 5000+5000 کتابیں رکھوا دی گئی تھیں ۔ سلنگ نئی بنوانے کی بجائے فوجی افسرانِ بالا نے یہ سوچ لیا تھا کہ سلنگ ہی ہے نا ۔ کسی سپلائر کے پاس اَینفِیلڈ رائفل نمبر 4 مارک 2 جو کئی سال قبل بننا بند ہو چکی تھیں کی سلنگز پڑی تھیں وہ خرید کر نئی مشین گنوں کے ساتھ بھیج دی گئی تھیں ۔

یونہی تو ہمارہ ملک تباہ نہیں ہوا ۔ 60 میں سے پہلے 6 سال تو مہاجرین کی بحالی اور ملک کا انتظامی ناک نقشہ ٹھیک کرنے میں گذر گئے ۔ باقی 54 سالوں میں سے 32 سال 3 ماہ جرنیلوں نے حکومت کی ہے اور بقایا 21 سال 9 ماہ جرنیلوں نے سویلین حکمرانوں کی کمر پر ریشمی رومال میں چھپا کر پستول رکھے رکھا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: